ابنا: دارالحکومت طرابلس میں حکومت کے حامی فوجیوں کو بڑی تعداد میں تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ شہر کے مضافاتی علاقوں میں ٹینک گشت کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق طرابلس سے پچاس کلو میٹر دور ایک شہر پر حکومت مخالف عناصر کا قبضہ ہو گیا ہے۔ ملک کے مشرقی حصہ میں واقع شہر بن غازی میں فوج اور سکیورٹی فورسز سے لوٹے ہوئے اسلحے کو لوگوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ لوگ قطاروں میں کھڑے ہو کر اسلحہ حاصل کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ طرابلس میں آخری جنگ کے لیے تیار ہیں۔ اسی دوران ملک کے مشرقی حصوں میں تعینات بہت سے فوجی دستوں نے معمر قذافی سے منحرف ہو کر مظاہرین کی حمایت شروع کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کرنل قذافی کی حمایتی فورسز تیونس کی سرحد سے متصل شہر زاویہ پر حملے کر رہی ہیں لیکن قذافی مخالف ملیشیا نے شہر پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے۔ دارالحکومت طرابلس کی سڑکوں پر ویرانی چھائی ہوئی ہے کیونکہ وہاں اطلاعات کے مطابق کرنل قذافی کے حامی مسلح افراد سڑکوں پر گشت کررہے ہیں اور سڑکوں پر نکلنے والے ہر آدمی کو گولی مار کر ہلاک کررہے ہیں لہذا لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں لیبیا کے عوام طرابلس کو قذافی ڈکٹیٹر کے ہاتھ سے نجات دلانے کے لئے طرابلس کی طرف بڑھ رہے ہیں اور آخری معرکہ طرابلس میں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔
/110